بنگلورو،7؍ فروری (ایس او نیوز) خاتون وکیل اور سیاستداں میرا راگھویندر نے مجسٹریٹ کی عدالت کے احاطہ میں معقولیت پسند کنڑا مصنف کے ایس بھگوان کے چہرے پر نہ صرف سیاہی پھینکی بلکہ انہیں دھکیل بھی دیا۔
اس خاتون نے نہ صرف انہیں اس کے خلاف کارروائی کرنے کا چیلنج کیا بلکہ ٹوئٹر پر34 سیکنڈ کے اپنےویڈیو میں اپنی حرکت کو بھی جائز ٹھہرایا۔
اپنے ٹوئٹر پروفائل میں وہ سیاستداں ہونے کا دعویٰ کرتی ہے مگر اُس پارٹی کا کوئی ذکر نہیں جس سے وہ وابستہ ہے۔
اس کا دعویٰ ہے کہ بھگوان ، ہندوؤں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے کیس میں ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب رہے مگر میں مطمئن ہوں کہ میں نے اس کے چہرے پر سیاہی پھینکی۔
جئے شری رام ۔’’کلب میں خاتون کو مصننف کے خلاف چیختے سنا گیا کہ اسے مذہب پر موقف پر شرم آنی چاہیے۔ تم پروفیسر ہو اور اتنے ضعیف ہو۔ تم ہندو مذہب اور دیوتاؤں کے تعلق سے بکواس کرتے رہتے ہو۔ کیا تہمیں شرم نہیں آتی۔‘‘
واضح رہے کہ بھگوان سناتن دھرم اور اس کی رسومات کے ایک کٹر ناقد ہیں اور لارڈرام کے خلاف کئی کتابیں تنصیف کرچکے ہیں۔ان کی کتابیں اور ہندو مذہب پر ان کے نظریات، دائیں بازو کی شدید تنقیدوں میں رہے ہیں جو ان پر ’’ہندومذہب کا دشمن‘‘ ہونے کا الزام عائد کرتا ہے۔
حال ہی میں کرناٹک کے سرکاری لائبریوں میں سے ان کی کتاب ’’ ہمیں رام مندر نہیں چاہیے ‘‘ہٹا لی تھی۔